کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا

مخمور دہلوی

کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا

مخمور دہلوی

MORE BYمخمور دہلوی

    کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتا

    یہاں پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتا

    محبت کا صلہ ایثار کا حاصل نہیں ملتا

    وہ نظریں بارہا ملتی ہیں لیکن دل نہیں ملتا

    تمہارا روٹھنا تمہید تھی افسانۂ غم کی

    زمانہ ہو گیا ہم سے مزاج دل نہیں ملتا

    جہاں تک دیکھتا ہوں میں جہاں تک میں نے سمجھا ہے

    کوئی تیرے سوا تعریف کے قابل نہیں ملتا

    حرم کی منزلیں ہوں یا صنم خانے کی راہیں ہوں

    خدا ملتا نہیں جب تک مقام دل نہیں ملتا

    مسافر اپنی منزل پر پہنچ کر چین پاتے ہیں

    وہ موجیں سر پٹکتی ہیں جنہیں ساحل نہیں ملتا

    ہم اپنا غم لیے بیٹھے ہیں اس بزم طرب میں بھی

    کسی نغمے سے اب مخمورؔ ساز دل نہیں ملتا

    مأخذ :
    • کتاب : Aazadi ke baad dehli men urdu gazal (Pg. 328)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY