کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے

تہذیب حافی

کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے

تہذیب حافی

MORE BYتہذیب حافی

    کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے

    کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہے

    عجیب دکھ ہے ہم اس کے ہو کر بھی اس کو چھونے سے ڈر رہے ہیں

    عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں میں بٹ رہی ہے

    میں اس کو ہر روز بس یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا

    سنو یہاں کوئی مسئلہ ہے تمہاری آواز کٹ رہی ہے

    مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے اور سبز ہونے سے کیا کسی کو

    یہ بیل شاید کسی مصیبت میں ہے جو مجھ سے لپٹ رہی ہے

    یہ وقت آنے پہ اپنی اولاد اپنے اجداد بیچ دے گی

    جو فوج دشمن کو اپنا سالار گروی رکھ کر پلٹ رہی ہے

    سو اس تعلق میں جو غلط فہمیاں تھیں اب دور ہو رہی ہیں

    رکی ہوئی گاڑیوں کے چلنے کا وقت ہے دھندھ چھٹ رہی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    تہذیب حافی

    تہذیب حافی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY