کسے خبر تھی کہ اس کو بھی ٹوٹ جانا تھا

سرفراز نواز

کسے خبر تھی کہ اس کو بھی ٹوٹ جانا تھا

سرفراز نواز

MORE BY سرفراز نواز

    کسے خبر تھی کہ اس کو بھی ٹوٹ جانا تھا

    ہمارا آپ سے رشتہ بہت پرانا تھا

    ہم اپنے شہر سے ہو کر اداس آئے تھے

    تمہارے شہر سے ہو کر اداس جانا تھا

    صدا لگائی مگر کوئی بھی نہیں پلٹا

    ہر ایک شخص نہ جانے کہاں روانہ تھا

    یوں چپ ہوا کہ پھر آنکھیں ہی ڈبڈبا اٹھیں

    نہ جانے اس کو ابھی اور کیا بتانا تھا

    کسے پڑی تھی مرا حال پوچھتا مجھ سے

    مجھے تو رسم نبھانی تھی مسکرانا تھا

    بھنک نہ جانے یہ کیسے لگی ہواؤں کو

    کہ مجھ کو راہ گزر پر دیا جلانا تھا

    چھپی تھی اس میں ہی تمہید بھی جدائی کی

    ہمارا آپ سے ملنا تو اک بہانہ تھا

    تجھے خبر ہی نہیں میرے جیتنے والے

    ترے لئے تو ہمیشہ ہی ہار جانا تھا

    نگاہ شوق سے یوں غیر کو ترا تکنا

    نوازؔ اور نہیں کچھ مجھے ستانا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY