کسی بھی زخم کا دل پر اثر نہ تھا کوئی

سحر انصاری

کسی بھی زخم کا دل پر اثر نہ تھا کوئی

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    کسی بھی زخم کا دل پر اثر نہ تھا کوئی

    یہ بات جب کی ہے جب چارہ گر نہ تھا کوئی

    کسی سے رنگ افق ہی کی بات کر لیتے

    اب اس قدر بھی یہاں معتبر نہ تھا کوئی

    بنائے جاؤں کسی اور کے بھی نقش قدم

    یہ کیوں کہوں کہ مرا ہم سفر نہ تھا کوئی

    گزر گئے ترے کوچے سے اجنبی کی طرح

    کہ ہم سے سلسلۂ بام و در نہ تھا کوئی

    جسے گزار گئے ہم بڑے ہنر کے ساتھ

    وہ زندگی تھی ہماری ہنر نہ تھا کوئی

    عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل

    کہ اٹھ کے وہ بھی چلا جس کا گھر نہ تھا کوئی

    ہجوم شہر میں شامل رہا اور اس کے بعد

    سحرؔ ادھر بھی گیا میں جدھر نہ تھا کوئی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    سحر انصاری

    سحر انصاری

    مآخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 18.06.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY