کسی بت کی ادا نے مار ڈالا

مضطر خیرآبادی

کسی بت کی ادا نے مار ڈالا

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    کسی بت کی ادا نے مار ڈالا

    بہانے سے خدا نے مار ڈالا

    جفا کی جان کو سب رو رہے ہیں

    مجھے ان کی وفا نے مار ڈالا

    جدائی میں نہ آنا تھا نہ آئی

    مجھے ظالم قضا نے مار ڈالا

    مصیبت اور لمبی زندگانی

    بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا

    انہیں آنکھوں سے جینا چاہتا ہوں

    جن آنکھوں کی حیا نے مار ڈالا

    ہمارا امتحاں اور کوئے دشمن

    کسی نے بے ٹھکانے مار ڈالا

    پڑا ہوں اس طرح اس در پہ مضطرؔ

    کوئی دیکھے تو جانے مار ڈالا

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 181)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY