کسی کے پیکر روپوش پر نظر ہے ابھی

شوق اثر رامپوری

کسی کے پیکر روپوش پر نظر ہے ابھی

شوق اثر رامپوری

MORE BYشوق اثر رامپوری

    کسی کے پیکر روپوش پر نظر ہے ابھی

    تو دور مجھ سے در اندازیٔ سحر ہے ابھی

    یہ جان کر بھی کہ مجھ پر نظر نظر ہے ابھی

    مرا شعور برائی سے بے خبر ہے ابھی

    لگے ہیں بغض کے شیشے جہاں جبینوں میں

    وہاں اداس محبت کا سنگ در ہے ابھی

    اسی کو لوگ سمیٹیں گے داستانوں میں

    مرے لبوں پہ جو روداد مختصر ہے ابھی

    کسی کا کلک تنفر چرا نہ لے اس کو

    جو حسن میری نگارش میں جلوہ گر ہے ابھی

    خدا بچائے ہر ایسی کتاب کو جس میں

    ہے ٹیپو آج بھی ٹیپو ظفر ظفر ہے ابھی

    یوں ہی رہے گا رہے گا رہے گا تا بہ حیات

    ادب پہ شوقؔ کے جو سایۂ اثرؔ ہے ابھی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY