کسی کے سنگ در سے اپنی میت لے کے اٹھیں گے

مضطر خیرآبادی

کسی کے سنگ در سے اپنی میت لے کے اٹھیں گے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    کسی کے سنگ در سے اپنی میت لے کے اٹھیں گے

    یہی پتھر پئے تعویذ تربت لے کے اٹھیں گے

    گئے وہ دن کہ ہم گرتے تھے اور ہمت اٹھاتی تھی

    وہ دن آیا کہ اب ہم اپنی ہمت لے کے اٹھیں گے

    اگر دل ہے تو تیرا درد الفت ساتھ جائے گا

    کلیجا ہے تو تیرا داغ حسرت لے کے اٹھیں گے

    یہ پیدا ہوتے ہی رونا صریحاً بدشگونی ہے

    مصیبت میں رہیں گے اور مصیبت لے کے اٹھیں گے

    خط قسمت مٹاتے ہو مگر اتنا سمجھ لینا

    یہ حرف آرزو ہاتھوں کی رنگت لے کے اٹھیں گے

    مجھے اپنی گلی میں دیکھ کر وہ ناز سے بولے

    محبت سے دبے جاتے ہیں حسرت لے کے اٹھیں گے

    ترے کوچے میں کیوں بیٹھے فقط اس واسطے بیٹھے

    کہ جب اٹھیں گے اس دنیا سے جنت لے کے اٹھیں گے

    ترا راز محبت لے کے آئے لے کے جائیں گے

    امانت لے کے بیٹھے ہیں امانت لے کے اٹھیں گے

    ہمیں اس نام جپنے کا مزا اس روز آئے گا

    تمہارا نام جس دن زیر تربت لے کے اٹھیں گے

    دم آخر ہم آنچل ان کا مضطرؔ کس طرح چھوڑیں

    یہی تو ہے کفن جس کی بدولت لے کے اٹھیں گے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman  (Part-11) (Pg. 85)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY