کسی کی آنکھ سے آنسو ٹپک رہے ہوں گے

شکیل شمسی

کسی کی آنکھ سے آنسو ٹپک رہے ہوں گے

شکیل شمسی

MORE BY شکیل شمسی

    کسی کی آنکھ سے آنسو ٹپک رہے ہوں گے

    تمام شہر میں جگنو چمک رہے ہوں گے

    چھپا کے رکھے ہیں کپڑوں کے بیچ میں اس نے

    مرے خطوط یقیناً مہک رہے ہوں گے

    کھلی ہے دھوپ کئی دن کے بعد آنگن میں

    پھر الگنی پہ دوپٹے لٹک رہے ہوں گے

    وہ چھت پہ بال سکھانے کو آ گئی ہوگی

    نہ جانے اب کہاں بادل بھٹک رہے ہوں گے

    مرے جلائے ہوئے سرخ سرخ انگارے

    تمہارے ہونٹوں پہ اب تک دہک رہے ہوں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY