کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے

پروین ام مشتاق

کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے

پروین ام مشتاق

MORE BYپروین ام مشتاق

    کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے

    ابھی اس کی دنیا کو لذت نہیں ہے

    اگر تم کو ملنے کی فرصت نہیں ہے

    مجھے بھی زیادہ ضرورت نہیں ہے

    بہت خوش نما ہے گلستان عالم

    مگر سیر کرنے کی فرصت نہیں ہے

    بہت سے گھروں میں خزانے ہیں مدفوں

    نہیں ہے تو گنج قناعت نہیں ہے

    کہاں تک نہ بے ہوش و بے خود کرے گی

    مئے وصل ہے کوئی شربت نہیں ہے

    خیالات میں اپنے ہوں غرق واعظ

    مجھے کہنے سننے کی فرصت نہیں ہے

    دکھاتے نہیں شرم سے روئے روشن

    کوئی کامیابی کی صورت نہیں ہے

    تزلزل میں کس واسطے ہے زمانہ

    شب ہجر ہے یہ قیامت نہیں ہے

    کہاں اے پری تو کہاں حور جنت

    تری اس کی آپس میں نسبت نہیں ہے

    مری قمریوں کے سوا کون انساں

    یہ شمشاد ہے اس کی قامت نہیں ہے

    وہ اٹھے تو لاکھوں ہی فتنے اٹھیں گے

    وہ قامت بھی کم از قیامت نہیں ہے

    نہ کیوں دل لگے یاں وہ ہے اور خلوت

    یہ حورا نہیں ہے یہ جنت نہیں ہے

    جفائیں نہ کیجے نہ کیجے نہ کیجے

    تحمل کی اب مجھ کو طاقت نہیں ہے

    تلاطم میں مصروف ہے قطرہ قطرہ

    کوئی شے یہاں بے حقیقت نہیں ہے

    جہاں تک بنے تم سے بیداد کر لو

    اگر آنے والی قیامت نہیں ہے

    لرزتا ہے کیوں ڈر سے اے جسم لاغر

    یہ دھڑکا ہے دل کا قیامت نہیں ہے

    حسینوں کی چاہت حسینوں کی الفت

    مصیبت بھی ہے اور مصیبت نہیں ہے

    تمہیں عاشق اور مجھ کو معشوق لاکھوں

    یہاں آدمیوں کی قلت نہیں ہے

    سنبھل کر ذرا ناز و اغماض کیجے

    حسینوں کی دنیا میں قلت نہیں ہے

    زمانہ میں ہونے کو سب کچھ ہے پرویںؔ

    ہمیں کیا امید شفاعت نہیں ہے

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    Kisi ki kisi ko mohabbat nahin hai عذرا نقوی

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY