کسی کتاب سے نوچے ہوئے ورق کی طرح

حیات وارثی

کسی کتاب سے نوچے ہوئے ورق کی طرح

حیات وارثی

MORE BYحیات وارثی

    کسی کتاب سے نوچے ہوئے ورق کی طرح

    ہے بے دیار محبت بھی آج حق کی طرح

    ہیں آج سارے قیافہ شناس حیرت میں

    ہر ایک چہرہ ہے اک جملۂ ادق کی طرح

    نہ اپنے ساتھ اجالا ہے اور نہ تاریکی

    بکھر گئے ہیں فضاؤں میں ہم شفق کی طرح

    صدا بھٹکتی رہی قہقہوں کے جنگل میں

    میں اپنا حال سنایا کیا سبق کی طرح

    میں کیسے کرتا مکمل نقوش ہستی کے

    رخ حیاتؔ بدلتا رہا افق کی طرح

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے