کسی نے پھر سے لگائی صدا اداسی کی

شاہدہ مجید

کسی نے پھر سے لگائی صدا اداسی کی

شاہدہ مجید

MORE BY شاہدہ مجید

    کسی نے پھر سے لگائی صدا اداسی کی

    پلٹ کے آنے لگی ہے فضا اداسی کی

    بہت اڑے گا یہاں پر فسردگی کا غبار

    کہ پھر سے چلنے لگی ہے ہوا اداسی کی

    زمین دل پہ محبت کی آب یاری کو

    بہت ہی ٹوٹ کے برسی گھٹا اداسی کی

    نظر نظر میں اداسی دکھائی دینے لگی

    نگر نگر میں ہے پھیلی وبا اداسی کی

    کسی طبیب کسی چارہ گر کے پاس نہیں

    کوئی علاج کوئی بھی دوا اداسی کی

    کوئی علاج نہیں ہے تو پھر دعا ہی کریں

    کہ چھوڑ جائے ہمیں یہ بلا اداسی کی

    اے آفتاب یہ عالم ترا غروب کے وقت

    سکھائی کس نے تجھے یہ ادا اداسی کی

    زمین زادوں کو ورثہ ملا ہے آدم سے

    ہوئی تھی خلد سے ہی ابتدا اداسی کی

    یہ تیرے دل سے تری روح میں اتر جائے

    بچھڑنے والے نے دی تھی دعا اداسی کی

    یہ دل کا کاسہ ابھی خام ہے اے کوزہ گر

    تو اور آنچ پہ اس کو تپا اداسی کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY