کسی قلم سے کسی کی زباں سے چلتا ہوں

دھیریندر سنگھ فیاض

کسی قلم سے کسی کی زباں سے چلتا ہوں

دھیریندر سنگھ فیاض

MORE BYدھیریندر سنگھ فیاض

    کسی قلم سے کسی کی زباں سے چلتا ہوں

    میں تیر کس کا ہوں کس کی کماں سے چلتا ہوں

    میں تھک گیا ہوں ٹھہر کر کسی سمندر سا

    با رنگ ابر ترے آستاں سے چلتا ہوں

    تو چھوڑ دے گا ادھورا مجھے کہانی میں

    اسی لیے میں تری داستاں سے چلتا ہوں

    جو میرے سینہ کے بائیں طرف دھڑکتا ہے

    اسی کے نقش قدم پر وہاں سے چلتا ہوں

    یہاں سے چلنے کا مطلب تو اور ہے لیکن

    میں تھک چکا ہوں مری جاں یہاں سے چلتا ہوں

    اب اگر چاہے تو لوگوں کے بیچ لے آنا

    میں آج اپنے ترے درمیاں سے چلتا ہوں

    نہ جانے کیسے سفر میں ہوں مبتلا فیاضؔ

    وہیں پہ آتا ہوں واپس جہاں سے چلتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY