کسی صورت سے اس محفل میں جا کر

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

کسی صورت سے اس محفل میں جا کر

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    کسی صورت سے اس محفل میں جا کر

    مقدر ہم بھی دیکھیں آزما کر

    تغافل کیش میں نے ہی بنایا

    اسے حال دل شیدا سنا کر

    اٹھا لینے سے تو دل کے رہا میں

    تو اب ظالم وفا کر یا جفا کر

    ترے گلشن میں پہنچے کاش اک دن

    نسیم آشنائی راہ پا کر

    خوشی ان کو مبارک ہو الٰہی

    وہ خوش ہیں خاک میں مجھ کو ملا کر

    دہن ہے رشک سے غنچے کا پرخوں

    کدھر دیکھا تھا تم نے مسکرا کر

    وہ شرماتے ہیں سن کر وصل کا نام

    رہا ہوں میں جو چپ تو بات پا کر

    ہوا وہ بے وفائی میں مسلم

    نشان تربت عاشق مٹا کر

    گناہ اپنے مجھے یاد آئے وحشتؔ

    خجل سا رہ گیا میں ہاتھ اٹھا کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY