کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر

محمد علوی

کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر

    اب اور اپنے آپ کو مت پائمال کر

    مرنے کے ڈر سے اور کہاں تک جئے گا تو

    جینے کے دن تمام ہوئے انتقال کر

    اک یاد رہ گئی ہے مگر وہ بھی کم نہیں

    اک درد رہ گیا ہے سو رکھنا سنبھال کر

    دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا

    خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر

    خواجہ کے در سے کوئی بھی خالی نہیں گیا

    آیا ہے اتنے دور تو علویؔ سوال کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY