کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں

عزم بہزاد

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں

عزم بہزاد

MORE BYعزم بہزاد

    INTERESTING FACT

    عزم بہزاد نے تیسرا شعر اپنی بیٹی کے لئے کہا تھا ، جس کا کم عمری میں ہی ایکسیڈنٹ کی وجہ سے انتقال ہو گیا ۔

    کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں

    میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں

    ایک نگاہ کا سناٹا ہے اک آواز کا بنجر پن

    میں کتنا تنہا بیٹھا ہوں قربت کے ویرانے میں

    آج اس پھول کی خوشبو مجھ میں پیہم شور مچاتی ہے

    جس نے بے حد عجلت برتی کھلنے اور مرجھانے میں

    ایک ملال کی گرد سمیٹے میں نے خود کو پار کیا

    کیسے کیسے وصل گزارے ہجر کا زخم چھپانے میں

    جتنے دکھ تھے جتنی امیدیں سب سے برابر کام لیا

    میں نے اپنے آئندہ کی اک تصویر بنانے میں

    ایک وضاحت کے لمحے میں مجھ پر یہ احوال کھلا

    کتنی مشکل پیش آتی ہے اپنا حال بتانے میں

    پہلے دل کو آس دلا کر بے پروا ہو جاتا تھا

    اب تو عزمؔ بکھر جاتا ہوں میں خود کو بہلانے میں

    RECITATIONS

    جاوید صبا

    جاوید صبا

    جاوید صبا

    کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں جاوید صبا

    مآخذ
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 17.09.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY