کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی

فارغ بخاری

کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی

فارغ بخاری

MORE BY فارغ بخاری

    کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی

    راہ میں فاصلے ہیں پہلے ہی

    کچھ تلافی نگار فصل خزاں

    ہم لٹے قافلے ہیں پہلے ہی

    اور لے جائے گا کہاں گلچیں

    سارے مقتل کھلے ہیں پہلے ہی

    اب زباں کاٹنے کی رسم نہ ڈال

    کہ یہاں لب سلے ہیں پہلے ہی

    اور کس شئے کی ہے طلب فارغؔ

    درد کے سلسلے ہیں پہلے ہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY