کوہ کن شب تھے رہا شغل سحر ہونے تک

آر پی شوخ

کوہ کن شب تھے رہا شغل سحر ہونے تک

آر پی شوخ

MORE BYآر پی شوخ

    کوہ کن شب تھے رہا شغل سحر ہونے تک

    سر پٹکنا اسی دیوار میں در ہونے تک

    اس کی عادت تھی مرے خون کو پانی کرنا

    رنگ کیا کیا نہ اڑا آنکھ کے تر ہونے تک

    اب دوا ہے نہ دعا ہے نہ مسیحا گویا

    ہر خدائی تھی مرا خون جگر ہونے تک

    عمر بھر پھر سے جدائی کو محبت کہنا

    دیکھنا بھی ہے زمانے کی نظر ہونے تک

    اپنی آہیں ہی سبک گام نہ ہونے دیں گی

    پا بہ زنجیر چلو ختم سفر ہونے تک

    شہر کا شہر ہوا اب تو تعاقب میں مرے

    تیرا جادو بھی تھا مجھ خاک بسر ہونے تک

    یہ تو میں تھا کہ تراشا ہے ہر اک زخم سے پھول

    ہاتھ کٹ جاتے ہیں ناخن میں ہنر ہونے تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے