کہرہ اوڑھے ٹہل رہی تھی جھیل پہ گہری خاموشی

طارق عثمانی

کہرہ اوڑھے ٹہل رہی تھی جھیل پہ گہری خاموشی

طارق عثمانی

MORE BYطارق عثمانی

    کہرہ اوڑھے ٹہل رہی تھی جھیل پہ گہری خاموشی

    پھر سورج نے دھوپ بچھائی تب کچھ ٹھہری خاموشی

    شب کی ساڑی پہن کے سینے پر بل کھاتی ہے میرے

    دن کا آنچل اوڑھ کے شرماتی ہے سنہری خاموشی

    گاؤں کی اس خاموشی میں اک لذت تھی البیلی سی

    کمرہ کمرہ گھونٹ رہی ہے ہر پل شہری خاموشی

    گم ہو گئیں ہیں میری صدائیں کھو گئیں ہیں سب آوازیں

    چیخیں تک بھی سنتی نہیں ہے ہائے یہ بھری خاموشی

    یادیں گواہ ہیں جذبے قیدی ہجر ہے منصف وقت وکیل

    روز لگاتی ہے اس دل میں عشق کچہری خاموشی

    من مندر میں دھیان مگن ہے اک تیرا سچا سادھو

    اور سادھو کے پھیرے لیتی جوگن گہری خاموشی

    صبح کے منظر جھلس گئے ہیں شام کی جھیلیں صدیوں دور

    ہجر کی دھن پر رقص کناں ہے گرم دوپہری خاموشی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY