کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیا

لیاقت علی عاصم

کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیا

لیاقت علی عاصم

MORE BYلیاقت علی عاصم

    کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیا

    مجھے اپنا ہاتھ بھی چھو گیا تو خیال تیری طرف گیا

    کوئی آ کے جیسے چلا گیا کوئی جا کے جیسے گیا نہیں

    مجھے اپنا گھر کبھی گھر لگا تو خیال تیری طرف گیا

    مری بے کلی تھی شگفتگی سو بہار مجھ سے لپٹ گئی

    کہا وہم نے کہ یہ کون تھا تو خیال تیری طرف گیا

    مجھے کب کسی کی امنگ تھی مری اپنے آپ سے جنگ تھی

    ہوا جب شکست کا سامنا تو خیال تیری طرف گیا

    کسی حادثے کی خبر ہوئی تو فضا کی سانس اکھڑ گئی

    کوئی اتفاق سے بچ گیا تو خیال تیری طرف گیا

    ترے ہجر میں خور و خواب کا کئی دن سے ہے یہی سلسلہ

    کوئی لقمہ ہاتھ سے گر پڑا تو خیال تیری طرف گیا

    مرے اختیار کی شدتیں مری دسترس سے نکل گئیں

    کبھی تو بھی سامنے آ گیا تو خیال تیری طرف گیا

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 25.10.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY