کوئی ادا جو کہیں اپنے پن سی پاتا ہوں

ماجد دیوبندی

کوئی ادا جو کہیں اپنے پن سی پاتا ہوں

ماجد دیوبندی

MORE BYماجد دیوبندی

    کوئی ادا جو کہیں اپنے پن سی پاتا ہوں

    دیار غیر میں ٹھنڈک وطن سی پاتا ہوں

    میں جب بھی تجزیہ کرتا ہوں تیرا اے دنیا

    اس آئینے میں تجھے بد چلن سی پاتا ہوں

    خدا کرے کہ مرے دوست خیریت سے ہوں

    عجیب طرح کی دل میں چبھن سی پاتا ہوں

    بدلنے والا ہے شاید مزاج موسم کا

    جبین وقت کو میں پرشکن سی پاتا ہوں

    سکون ملتا ہے یاروں سے معذرت کر کے

    تعلقات میں جب بھی گھٹن سی پاتا ہوں

    خدا ہی رکھے مرے کارواں کی خیر اب تو

    کہ راہ بر میں ادا راہزن سی پاتا ہوں

    میں دشمنوں میں نہیں دوستوں میں ہوں ماجدؔ

    یہاں تو اور زیادہ گھٹن سی پاتا ہوں

    مأخذ :
    • کتاب : Shaakh-e-Dil (Pg. 89)
    • Author : Dr. Majid Deobandi
    • مطبع : Anjum Book Depot, Delhi-6 (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY