کوئی گر اشک بھی پونچھے تو غم ہلکا نہیں ہوتا

انس نبیل

کوئی گر اشک بھی پونچھے تو غم ہلکا نہیں ہوتا

انس نبیل

MORE BYانس نبیل

    کوئی گر اشک بھی پونچھے تو غم ہلکا نہیں ہوتا

    گھڑی آگے بڑھا دینے سے دن چھوٹا نہیں ہوتا

    پلاتی ہیں کسے اب دودھ مائیں با وضو ہو کر

    تبھی تو ہم میں اب ٹیپو کوئی پیدا نہیں ہوتا

    گناہوں کی بھیانک برف باری ہم کو کھا جاتی

    خدا کے رحم کا سورج اگر چمکا نہیں ہوتا

    کہیں بھی جا کے بس جائیں وطن کی یاد آتی ہے

    کسی سوتیلی ماں سے مطمئن بیٹا نہیں ہوتا

    تری یادوں کے دریا میں ہر اک شب یہ نہاتی ہیں

    بدن غزلوں کا میری ایسے ہی گورا نہیں ہوتا

    نبیلؔ اخلاص بس دیہات کے لوگوں کا شیوہ ہے

    کسی بھی شہر کی مٹی میں یہ پودا نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY