کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں

آشفتہ چنگیزی

کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں

آشفتہ چنگیزی

MORE BYآشفتہ چنگیزی

    کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں

    اجڑنے لگیں خود بہ خود بستیاں

    جسے دیکھنے گھر سے نکلے تھے ہم

    دھواں ہو گیا شام کا وہ سماں

    سبھی کچھ تو دریا بہا لے گیا

    تجھے اور کیا چاہئے آسماں

    بس اک دھند ہے اور کچھ بھی نہیں

    روانہ ہوئی تھیں جدھر کشتیاں

    ابھی طے شدہ کوئی جادہ نہیں

    ابھی تک بھٹکتے ہیں سب کارواں

    یہی اک خبر گرم تھی شہر میں

    کہ اک شوخ بچے نے کھینچی کماں

    تماشا دکھا کے گئی صبح نو

    خموشی ہے پھر سے وہی درمیاں

    تعارف مرا کوئی مشکل نہیں

    میں آشفتہؔ چنگیزی ابن خزاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY