کوئی ہلچل ہے نہ آہٹ نہ صدا ہے کوئی

خورشید احمد جامی

کوئی ہلچل ہے نہ آہٹ نہ صدا ہے کوئی

خورشید احمد جامی

MORE BYخورشید احمد جامی

    کوئی ہلچل ہے نہ آہٹ نہ صدا ہے کوئی

    دل کی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا ہے کوئی

    ایک اک کر کے ابھرتی ہیں کئی تصویریں

    سر جھکائے ہوئے کچھ سوچ رہا ہے کوئی

    غم کی وادی ہے نہ یادوں کا سلگتا جنگل

    ہائے ایسے میں کہاں چھوڑ گیا ہے کوئی

    یاد ماضی کی پراسرار حسیں گلیوں میں

    میرے ہم راہ ابھی گھوم رہا ہے کوئی

    جب بھی دیکھا ہے کسی پیار کا آنسو جامیؔ

    میں نے جانا مرے نزدیک ہوا ہے کوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY