کوئی خوشی نہ کوئی رنج مستقل ہوگا

امیر امام

کوئی خوشی نہ کوئی رنج مستقل ہوگا

امیر امام

MORE BYامیر امام

    کوئی خوشی نہ کوئی رنج مستقل ہوگا

    فنا کے رنگ سے ہر رنگ متصل ہوگا

    عجب ہے عشق عجب تر ہیں خواہشیں اس کی

    کبھی کبھی تو بچھڑنے تلک کو دل ہوگا

    بدن میں ہو تو گلہ کیا تماش بینی کا

    یہاں تو روز تماشا و آب و گل ہوگا

    ابھی تو اور بھی چہرے تمہیں پکاریں گے

    ابھی وہ اور بھی چہروں میں منتقل ہوگا

    زیاں مزید ہے اسباب ڈھونڈھتے رہنا

    ہوا ہے جو وہ نہ ہونے پہ مشتمل ہوگا

    تمام رات بھٹکتا پھرا ہے سڑکوں پر

    ہوئی ہے صبح ابھی شہر مضمحل ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY