کوئی نادان نہ دانا اچھا

عاشق حسین بزم آفندی

کوئی نادان نہ دانا اچھا

عاشق حسین بزم آفندی

MORE BYعاشق حسین بزم آفندی

    کوئی نادان نہ دانا اچھا

    آپ اچھے تو زمانا اچھا

    نہ ہوا دل کا لگانا اچھا

    غلطی کی نہیں جانا اچھا

    ایسے بگڑوں کا بنانا اچھا

    وہ جو روٹھیں تو منانا اچھا

    آئے ہیں غیر کو لے کر ہمراہ

    ایسے آنے سے نہ آنا اچھا

    ساتھ ہے زیر زمیں تاروں کے

    یہ ملا اس کو خزانہ اچھا

    یہ مقابل ہے وہ سر چڑھتا ہے

    آئنے سے تو ہے شانا اچھا

    مجھ سے ملنے میں بہانے نہ کرو

    خون اس سے تو بہانا اچھا

    اے حنا جاتے ہیں وہ غیر کے گھر

    رنگ ایسے میں جمانا اچھا

    لوٹ ہوں خال رخ یار پہ میں

    ہو جو قسمت میں یہ دانا اچھا

    بادشہ سے بھی نہیں دبتے تھے

    تھا لڑکپن کا زمانا اچھا

    درد ہو جس میں حکایت ہے وہ خوب

    جو ہو رنگیں وہ فسانا اچھا

    طور پر کام تھا کیا جلوے کا

    دل میں آنکھوں میں سمانا اچھا

    یہی اے بزمؔ رہے دل میں خیال

    ہم برے سب سے زمانا اچھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے