کوئی نام ہے نہ کوئی نشاں مجھے کیا ہوا

فیضی

کوئی نام ہے نہ کوئی نشاں مجھے کیا ہوا

فیضی

MORE BYفیضی

    کوئی نام ہے نہ کوئی نشاں مجھے کیا ہوا

    میں بکھر گیا ہوں کہاں کہاں مجھے کیا ہوا

    کسے ڈھونڈتا ہوں میں اپنے قرب و جوار میں

    اے فراق صحبت دوستاں مجھے کیا ہوا

    یہ کہاں پڑا ہوں زمیں کے گرد و غبار میں

    وہ کہاں گیا مرا آسماں مجھے کیا ہوا

    کوئی رات تھی کوئی چاند تھا کئی لوگ تھے

    وہ عجب سماں تھا مگر وہاں مجھے کیا ہوا

    مرے روبرو مجھے میں دکھائی نہیں دیا

    مرے آئینے مرے راز داں مجھے کیا ہوا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کوئی نام ہے نہ کوئی نشاں مجھے کیا ہوا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY