کوئی پوچھے تو نہ کہنا کہ ابھی زندہ ہوں

منظور ہاشمی

کوئی پوچھے تو نہ کہنا کہ ابھی زندہ ہوں

منظور ہاشمی

MORE BYمنظور ہاشمی

    کوئی پوچھے تو نہ کہنا کہ ابھی زندہ ہوں

    وقت کی کوکھ میں اک لمحۂ آئندہ ہوں

    زندگی کتنی حسیں کتنی بڑی نعمت ہے

    آہ میں ہوں کہ اسے پا کے بھی شرمندہ ہوں

    کیا ادا ہونے کو ہے سنت ابراہیمی

    آگ ہی آگ ہے ہر سمت مگر زندہ ہوں

    زندگی تو جو سنے گی تو ہنسی آئے گی

    میں سمجھتا ہوں کہ میں تیرا نمائندہ ہوں

    تیز رفتار ہواؤں کے لبوں سے پوچھو

    حرف آخر ہوں میں اک نغمۂ پائندہ ہوں

    اجنبی جان کے ہر شخص گزر جاتا ہے

    اور صدیوں سے اسی شہر کا باشندہ ہوں

    جانے کن تیز اجالوں میں نہایا تھا کبھی

    اس قدر سخت اندھیروں میں بھی تابندہ ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY