کوئی تو ہے جو آہوں میں اثر آنے نہیں دیتا

عمران الحق چوہان

کوئی تو ہے جو آہوں میں اثر آنے نہیں دیتا

عمران الحق چوہان

MORE BYعمران الحق چوہان

    کوئی تو ہے جو آہوں میں اثر آنے نہیں دیتا

    مرے نخل تمنا پہ ثمر آنے نہیں دیتا

    لیے پھرتا ہے مجھ کو قریہ قریہ کو بہ کو ہر دم

    مگر سارے سفر میں میرا گھر آنے نہیں دیتا

    مرے خوں سے جلاتا ہے چراغ شہر اہل زر

    مرے ہی گھر کے آنگن میں سحر آنے نہیں دیتا

    کھلاتا ہے وہ دل میں نت نئے گل آرزوؤں کے

    مگر ہونٹوں تلک اس کی خبر آنے نہیں دیتا

    جدھر بھی دیکھتا ہوں میں نظر آتا ہے بس وہ ہی

    مجھے اپنے علاوہ کچھ نظر آنے نہیں دیتا

    کھلا رکھتا ہے میرے سامنے افلاک کا منظر

    مگر کچھ سوچ کر وہ میرے پر آنے نہیں دیتا

    خدایا وقت کے اس پار کیا اسرار ہیں پنہاں

    مسافر کو کبھی تو لوٹ کر آنے نہیں دیتا

    میں جانا چاہتا ہوں پر مری مجبوریاں عمرانؔ

    وہ آنا چاہتا ہے کوئی ڈر آنے نہیں دیتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY