کوئی تو ذہن کے در پر ضرور دستک دے

نسیم سحر

کوئی تو ذہن کے در پر ضرور دستک دے

نسیم سحر

MORE BYنسیم سحر

    کوئی تو ذہن کے در پر ضرور دستک دے

    اگر شعور نہ دے لا شعور دستک دے

    طلوع صبح کا منظر عجیب ہوتا ہے

    جب آسماں سے صدائے طیور دستک دے

    اس انتظار میں ہے میرا قصر بے خوابی

    کہ کوئی نیند پری کوئی حور دستک دے

    فصیل شہر تمنا کی تیرگی بھی چھٹے

    کبھی تو اس پہ کوئی صبح نور دستک دے

    پھر ایک بار عذاب شکستگی سے گزر

    پھر اس کے در پہ دل ناصبور دستک دے

    انا کے خول سے نکلیں تو یوں بھی ممکن ہے

    در فقیر پہ دست غرور دستک دے

    ہم اور نور کی خیرات مانگنے جائیں

    ہمارے در پہ تو خود کوہ طور دستک دے

    مجھے غیاب کا عالم زیادہ راس آیا

    مگر کبھی کبھی شوق ظہور دستک دے

    حدود وقت کے دروازے منتظر ہیں نسیمؔ

    کہ تو یہ فاصلے کر کے عبور دستک دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے