کچھ اب کے رسم جہاں کے خلاف کرنا ہے

اظہر ادیب

کچھ اب کے رسم جہاں کے خلاف کرنا ہے

اظہر ادیب

MORE BYاظہر ادیب

    کچھ اب کے رسم جہاں کے خلاف کرنا ہے

    شکست دے کے عدو کو معاف کرنا ہے

    ہوا کو ضد کہ اڑائے گی دھول ہر صورت

    ہمیں یہ دھن ہے کہ آئینہ صاف کرنا ہے

    وہ بولتا ہے تو سب لوگ ایسے سنتے ہیں

    کہ جیسے اس نے کوئی انکشاف کرنا ہے

    مجھے پتہ ہے کہ اپنے بیان سے اس نے

    کہاں کہاں پہ ابھی انحراف کرنا ہے

    چراغ لے کے ہتھیلی پہ گھومنا ایسے

    ہوائے تند کو اپنے خلاف کرنا ہے

    وہ جرم ہم سے جو سرزد نہیں ہوئے اظہرؔ

    ابھی تو ان کا ہمیں اعتراف کرنا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے