کچھ عجب آن سے لوگوں میں رہا کرتے تھے

شاذ تمکنت

کچھ عجب آن سے لوگوں میں رہا کرتے تھے

شاذ تمکنت

MORE BY شاذ تمکنت

    کچھ عجب آن سے لوگوں میں رہا کرتے تھے

    ہم خفا ہو کے بھی آپس میں ملا کرتے تھے

    اتنی تہذیب رہ و رسم تو باقی تھی کہ وہ

    لاکھ رنجش سہی وعدہ تو وفا کرتے تھے

    اس نے پوچھا تھا کئی بار مگر کیا کہتے

    ہم مزاجاً ہی پریشان رہا کرتے تھے

    ختم تھا ہم پہ محبت کا تماشا گویا

    روح اور جسم کو ہر روز جدا کرتے تھے

    ایک چپ چاپ لگن سی تھی ترے بارے میں

    لوگ آ آ کے سناتے تھے سنا کرتے تھے

    تیری صورت سے خدا سے بھی شناسائی تھی

    کیسے کیسے ترے ملنے کی دعا کرتے تھے

    اس کو ہمراہ لیے آتے تھے میری خاطر

    میرے غم خوار مرے حق میں برا کرتے تھے

    زندگی ہم سے ترے ناز اٹھائے نہ گئے

    سانس لینے کی فقط رسم ادا کرتے تھے

    ہم برس پڑتے تھے شاذؔ اپنی ہی تنہائی پر

    ابر کی طرح کسی در سے اٹھا کرتے تھے

    مآخذ:

    • Book : Kulliyat-e- Shaz Tamkanat (Pg. 431)
    • Author : Shaz Tamkanat
    • مطبع : Educational Publishing House, Delhi (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY