کچھ اپنی جو حرمت تجھے منظور ہو اے شیخ

مصحفی غلام ہمدانی

کچھ اپنی جو حرمت تجھے منظور ہو اے شیخ

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    کچھ اپنی جو حرمت تجھے منظور ہو اے شیخ

    تو بحث نہ مے خواروں سے چل دور ہو اے شیخ

    مسجد میں ذرا وقت سحر دیکھ تو جا کر

    شاید کوئی اس چشم کا مخمور ہو اے شیخ

    صد دانۂ تسبیح رکھے ہاتھ میں اپنے

    چونکے تو جو یک دانۂ انگور ہو اے شیخ

    تو مجھ کو کہے ایک میں سو تجھ کو سناؤں

    اے کاش کہ اتنا مجھے مقدور ہو اے شیخ

    آیا ہے وہ بدمست لیے ہاتھ میں شمشیر

    مجلس سے شتابی کہیں کافور ہو اے شیخ

    کرتا ہے ہمیں منع تو پیمانہ کشی سے

    پیمانہ تری عمر کا معمور ہو اے شیخ

    البتہ کرے منع ہمیں عشق بتاں سے

    تجھ سا جو کوئی عقل سے معذور ہو اے شیخ

    پھر دم ہے وہ شملہ جو ہوا حد سے زیادہ

    رکھ شملہ تو شملے کا جو دستور ہو اے شیخ

    ہر حرف میں سختی ہے ترے سنگ جفا سے

    ڈرتا ہوں نہ پھر شیشۂ دل چور ہو اے شیخ

    کیا حور کی باتوں سے لبھاوے ہے تو مجھ کو

    حاشا کہ مجھے آرزوئے حور ہو اے شیخ

    شیخی میں تو سنتا ہی نہیں بات کسی کی

    اس داڑھی پر اتنا بھی نہ مغرور ہو اے شیخ

    کیوں مصحفیؔ کو اتنی تو کرتا ہے نصیحت

    سر چڑھ نہ بہت اس کے جو مجبور ہو اے شیخ

    مآخذ
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(divan-e-doom) (Pg. 148)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY