کچھ بتاؤ تو سہی اب کے تماشا کیا ہے

منظر نقوی

کچھ بتاؤ تو سہی اب کے تماشا کیا ہے

منظر نقوی

MORE BYمنظر نقوی

    کچھ بتاؤ تو سہی اب کے تماشا کیا ہے

    ہونٹ پر تالے لگے سب کے تماشا کیا ہے

    دل کے اک موڑ پہ رہتا ہے تمنا کا ہجوم

    جانے والے تو گئے کب کے تماشا کیا ہے

    ظلم ڈھاؤ یا بنا ڈالو محبت کا سفیر

    ہم نہیں رہتے کہیں دب کے تماشا کیا ہے

    جس کی خاموشی سے نکلا ہے سحر کا سورج

    ہم مسافر ہیں اسی شب کے تماشا کیا ہے

    رنگ مدھم ہیں مگر پیار کی خوشبو نہ گئی

    پھول تازہ ہیں تری چھب کے تماشا کیا ہے

    درد کے ساز پہ ہم نے بھی غزل خوانی کی

    گیت لکھے ہیں ترے لب کے تماشا کیا ہے

    تم تو دنیا ہو بدلنا ہے وطیرہ تیرا

    ہم کہاں بندے تیرے ڈھب کے تماشا کیا ہے

    صرف تم ہی تو بلندی پہ نہیں ہو تارو

    ہم بھی منظرؔ ہیں اسی رب کے تماشا کیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY