کچھ بے نام تعلق جن کو نام اچھا سا دینے میں

صائمہ اسما

کچھ بے نام تعلق جن کو نام اچھا سا دینے میں

صائمہ اسما

MORE BY صائمہ اسما

    کچھ بے نام تعلق جن کو نام اچھا سا دینے میں

    میں تو ساری بکھر گئی ہوں گھر کو اکٹھا رکھنے میں

    دائرہ منفی مثبت کا تو اپنی جگہ مکمل ہے

    کوئی برقی رو دوڑا دے اس بے جان سے ناطے میں

    کون احساس کی لو بخشے گا روکھے پھیکے منظر کو

    کون پروئے گا جذبوں کے موتی حرف کے دھاگے میں

    ایسا کیا اندھیر مچا ہے میرے زخم نہیں بھرتے

    لوگ تو پارہ پارہ ہو کر جڑ جاتے ہیں لمحے میں

    رنج کی اک بے موسم ٹہنی دل سے یوں پیوستہ ہے

    پوری شاخ ہری ہو جائے ایک سرا چھو لینے میں

    اوپر سے خاموشی اوڑھ کے پھرتے ہیں جو لوگ وہی

    دھجی دھجی پھرتے ہیں اندر کے پاگل خانے میں

    سیلابوں کی ریت سے جس کو تو نے عبث نمناک کیا

    دھیرے بہتا اک دریا بن اس صحرا کے سینے میں

    بارش ایک پڑے تو باہر آپے سے ہو جاتی ہے

    جس مخلوق نے آنکھیں کھولیں دھرتی کے تہہ خانے میں

    مآخذ:

    • کتاب : Gul-e-Dupahar (Pg. 114)
    • Author : Saima Asma
    • مطبع : Idarah Batool, Sayyed Palaza, Firozpur Road, Lahore (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY