کچھ بھی نہ اب کہیں گے قفس میں زباں سے ہم

سید اعجاز احمد رضوی

کچھ بھی نہ اب کہیں گے قفس میں زباں سے ہم

سید اعجاز احمد رضوی

MORE BYسید اعجاز احمد رضوی

    کچھ بھی نہ اب کہیں گے قفس میں زباں سے ہم

    صیاد کو رلائیں گے آہ و فغاں سے ہم

    مایوسیوں کے شہر میں لگتا نہیں ہے دل

    لے جائیں اپنے دل کو کہاں اس جہاں سے ہم

    گلشن جہاں جہاں ہیں وہیں بجلیاں بھی ہیں

    جائیں نکل کے دور کہاں آسماں سے ہم

    امشب مزاج یار میں کچھ برہمی سی ہے

    گزرے ہیں بار بار اسی امتحاں سے ہم

    دیتے رہے فریب محبت کے راستے

    پہنچے ہیں پھر وہیں کہ چلے تھے جہاں سے ہم

    وہ لے گئے ہیں چاند ستاروں کی روشنی

    کہتے رہے فسانۂ غم آسماں سے ہم

    خیرات حسن کاسۂ رضویؔ میں ڈال دے

    کچھ لے کے ہی اٹھیں گے ترے آستاں سے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY