کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں

شاہین عباس

کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں

شاہین عباس

MORE BY شاہین عباس

    کچھ بھی نہ جب دکھائی دے تب دیکھتا ہوں میں

    پھر بھی یہ خوف سا ہے کہ سب دیکھتا ہوں میں

    آنکھیں تمہارے ہاتھ پہ رکھ کر میں چل دیا

    اب تم پہ منحصر ہے کہ کب دیکھتا ہوں میں

    آہٹ عقب سے آئی اور آگے نکل گئی

    جو پہلے دیکھنا تھا وہ اب دیکھتا ہوں میں

    یہ وقت بھی بتاتا ہے آداب وقت بھی

    اس ٹوٹتے ستارے کو جب دیکھتا ہوں میں

    اب یاں سے کون دے مری چشم طلب کو داد

    جس فاصلے سے باب طلب دیکھتا ہوں میں

    ان پتلیوں کا قرض چکاتا ہوں کیا کروں

    بس دل سے دل ملاتا ہوں جب دیکھتا ہوں میں

    ناکام عشق ہوں سو مرا دیکھنا بھی دیکھ

    کم دیکھتا ہوں اور غضب دیکھتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY