کچھ بھی نہ اس کی زینت و زیبائی سے ہوا

ظفر اقبال

کچھ بھی نہ اس کی زینت و زیبائی سے ہوا

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    کچھ بھی نہ اس کی زینت و زیبائی سے ہوا

    جتنا فساد ہے مری یکتائی سے ہوا

    لگتا ہے اتنا وقت مرے ڈوبنے میں کیوں

    اندازہ مجھ کو خواب کی گہرائی سے ہوا

    لازم تھا جست بھرنے کی خاطر یہ کام بھی

    واقف میں اپنے آپ کا پسپائی سے ہوا

    کافی تھا یوں تو رنگ تماشا بذات خود

    جو بچ رہا وہ کام تماشائی سے ہوا

    ہوں کس قدر کسی کے شمار و قطار میں

    ظاہر وہاں پہ اپنی پذیرائی سے ہوا

    کمزوریاں ہماری ہوئیں وا شگاف جب

    اپنا بھی حشر پوری توانائی سے ہوا

    جو اصل چیز تھی وہ چھپی رہ گئی کہیں

    کچھ فائدہ نہ حاشیہ آرائی سے ہوا

    کھلنا تھا اپنے عیب و ہنر کا بھرم کہاں

    یہ بھی ہوا تو قافیہ پیمائی سے ہوا

    ہنگامہ گرم ہے جو مرے چار سو ظفرؔ

    سو بھی ہجوم سے نہیں تنہائی سے ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY