کچھ بھی نہیں رہا ہے عہد وفا کہ تھا

عامر اظہر

کچھ بھی نہیں رہا ہے عہد وفا کہ تھا

عامر اظہر

MORE BYعامر اظہر

    کچھ بھی نہیں رہا ہے عہد وفا کہ تھا

    دلی جو شہر دل تھا جو کچھ بھی تھا کہ تھا

    ثابت نہیں کسی سے اک زاویہ کہ تھا

    ثابت کی ہر کمی سے ثابت ہوا کہ تھا

    سب کو ملا مسیحا سب سے نہیں ملا

    کچھ کا تڑپ کے مرنا اک فیصلہ کہ تھا

    جب بھی وہی خدا تھا اب بھی وہی خدا

    اک تھا خدا نہیں تھا اک ہے خدا کہ تھا

    جاتے ہیں سب فلک کو آئے فلک سے کچھ

    اک سلسلہ ہے جاری اک سلسلہ کہ تھا

    آنکھیں بھی رقص میں تھیں رومی بھی رقص میں

    بس رقص رہ گیا ہے اک فلسفہ کہ تھا

    تیرا سراب چہرہ صحرائے وقت میں

    لگتا رہا نہیں ہے دکھتا رہا کہ تھا

    مدھم سی روشنی تھی ہلکا سا چاند تھا

    دل کو سکون عامرؔ آنسو بہا کہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے