کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھے

سلیم کوثر

کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھے

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھے

    تم کبھی صاحب کردار ہوا کرتے تھے

    سنتے ہیں ایسا زمانہ بھی یہاں گزرا ہے

    حق انہیں ملتا جو حق دار ہوا کرتے تھے

    تجھ کو بھی زعم سا رہتا تھا مسیحائی کا

    اور ہم بھی ترے بیمار ہوا کرتے تھے

    اک نظر روز کہیں جال بچھائے رکھتی

    اور ہم روز گرفتار ہوا کرتے تھے

    ہم کو معلوم تھا آنا تو نہیں تجھ کو مگر

    تیرے آنے کے تو آثار ہوا کرتے تھے

    عشق کرتے تھے فقط پاس وفا رکھنے کو

    لوگ سچ مچ کے وفادار ہوا کرتے تھے

    آئینہ خود بھی سنورتا تھا ہماری خاطر

    ہم ترے واسطے تیار ہوا کرتے تھے

    ہم گل خواب سجاتے تھے دکان دل میں

    اور پھر خود ہی خریدار ہوا کرتے تھے

    کوچۂ میرؔ کی جانب نکل آتے تھے سبھی

    وہ جو غالبؔ کے طرف دار ہوا کرتے تھے

    جن سے آوارگئ شب کا بھرم تھا وہ لوگ

    اس بھرے شہر میں دو چار ہوا کرتے تھے

    یہ جو زنداں میں تمہیں سائے نظر آتے ہیں

    یہ کبھی رونق دربار ہوا کرتے تھے

    میں سر دشت وفا اب ہوں اکیلا ورنہ

    میرے ہم راہ مرے یار ہوا کرتے تھے

    وقت رک رک کے جنہیں دیکھتا رہتا ہے سلیمؔ

    یہ کبھی وقت کی رفتار ہوا کرتے تھے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    سلیم کوثر

    سلیم کوثر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے