کچھ دنوں اس شہر میں ہم لوگ آوارہ پھریں

زبیر رضوی

کچھ دنوں اس شہر میں ہم لوگ آوارہ پھریں

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    کچھ دنوں اس شہر میں ہم لوگ آوارہ پھریں

    اور پھر اس شہر کے لوگوں کا افسانہ لکھیں

    شام ہو تو دوستوں کے ساتھ مے خانے چلیں

    صبح تک پھر رات کے طاقوں میں بے مصرف جلیں

    مدتیں گزریں ہم اس کی راہ سے گزرے نہیں

    آج اس کی راہ جانے کے بہانے ڈھونڈ لیں

    شہر کے دکھ کا مداوا ڈھونڈ لو چارہ گرو

    اس سے پہلے لوگ دیواریں سیہ کرنے لگیں

    ایک جیسے منظروں سے آنکھ بے رونق ہوئی

    آؤ اب کچھ دیر دیواروں سے باہر جھانک لیں

    پہلے گھر سے بے خیالی میں نکل پڑتے تھے لوگ

    اب تقاضائے جنوں یہ ہے کہ وہ اچھے لگیں

    مأخذ :
    • کتاب : Sang-ge-Sada (Pg. 265)
    • Author : Zubair Razvi
    • مطبع : Zehne Jadid, New Delhi (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY