کچھ خیال دل ناشاد تو کر لینا تھا

منظور ہاشمی

کچھ خیال دل ناشاد تو کر لینا تھا

منظور ہاشمی

MORE BYمنظور ہاشمی

    کچھ خیال دل ناشاد تو کر لینا تھا

    وہ نہیں تھا تو اسے یاد تو کر لینا تھا

    کچھ اڑانوں کے لیے اپنے پروں کو پہلے

    جنبش و جست سے آزاد تو کر لینا تھا

    پھر ذرا دیکھتے تاثیر کسے کہتے ہیں

    دل کو بھی شامل فریاد تو کر لینا تھا

    کوئی تعمیر کی صورت بھی نکل ہی آتی

    پہلے اس شہر کو برباد تو کر لینا تھا

    قیس کے بعد غزالاں کی تسلی کے لیے

    ہاشمیؔ دشت کو آباد تو کر لینا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY