کچھ لوگ جو نخوت سے مجھے گھور رہے ہیں

یاور عباس

کچھ لوگ جو نخوت سے مجھے گھور رہے ہیں

یاور عباس

MORE BYیاور عباس

    کچھ لوگ جو نخوت سے مجھے گھور رہے ہیں

    ماحول سے شاید یہ بہت دور رہے ہیں

    کیا کہیے کہ کیا ہو گیا اس شہر کا عالم

    جس شہر میں الفت کے بھی دستور رہے ہیں

    مجبور کسے کہتے ہیں یہ کون بتائے

    پوچھے کوئی ان سے کہ جو مجبور رہے ہیں

    کچھ لوگ سر دار رہے ہوں تو رہے ہوں

    ہم ہیں کہ بہر طور سر طور رہے ہیں

    ہنستے ہوئے چہروں پہ نہ جا سینوں میں ان کے

    حالات کے ٹکراؤ سے ناسور رہے ہیں

    اے شیخ غنیمت ہے اگر ہم کو سمجھ لو

    ہم منصب تصدیق پہ مامور رہے ہیں

    اک تم کہ خدائی کے بھی دعوے رہے تم کو

    اک ہم کہ اس اقرار سے معذور رہے ہیں

    سکان حرم کیا ہیں یہ مجھ سے کوئی پوچھے

    اللہ کے گھر میں بھی یہ مغرور رہے ہیں

    احسان بڑا بوجھ ہے اس خوف سے یاورؔ

    دیوار کے سائے سے بھی ہم دور رہے ہیں

    مآخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 720)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY