کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا

شاہین عباس

کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا

شاہین عباس

MORE BY شاہین عباس

    کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا

    ایسی ناموجود کو دنیا کہا جاتا ہے کیا

    ہم سخن تیرے مخاطب کا پتا کیسے کروں

    بولنا تھا کیا تجھے اور بولتا جاتا ہے کیا

    ایک دروازہ اور اندر دور تک کوئی نہیں

    آتے جاتے جھانک لینے سے ترا جاتا ہے کیا

    اس اندھیرے میں پڑے اک شخص کو دیکھا کبھی

    پاؤں سے ٹکرائے تو بانہوں میں آ جاتا ہے کیا

    ہم ادھر ہیں حشر اٹھا دیتے ہیں جب اٹھتی ہے لہر

    تم ادھر ہو ہاتھ اٹھا دو سب سنا جاتا ہے کیا

    میں کہ تیرا تیسرا غم ہوں سو یہ غم بھی تو کر

    تو کہ بس ہونے نہ ہونے پر مرا جاتا ہے کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY