کچھ تو وفا کا رنگ ہو دست جفا کے ساتھ

ساغر مہدی

کچھ تو وفا کا رنگ ہو دست جفا کے ساتھ

ساغر مہدی

MORE BYساغر مہدی

    کچھ تو وفا کا رنگ ہو دست جفا کے ساتھ

    سرخی مرے لہو کی ملا لو حنا کے ساتھ

    ہم وحشیوں سے ہوش کی باتیں فضول ہیں

    پیوند کیا لگائیں دریدہ قبا کے ساتھ

    صدیوں سے پھر رہا ہوں سکوں کی تلاش میں

    صدیوں کی بازگشت ہے اپنی صدا کے ساتھ

    پرواز کی امنگ نہ کنج قفس کا رنج

    فطرت مری بدل گئی آب و ہوا کے ساتھ

    کیا پتھروں کے شہر میں دوکان شیشہ گر

    اک شمع جل رہی ہے غضب کی ہوا کے ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY