کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاں

پیرزادہ قاسم

کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاں

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاں

    تمام دوست اجنبی ہیں دوستوں کے درمیاں

    شعور عصر ڈھونڈھتا رہا ہے مجھ کو اور میں

    مگن ہوں عہد رفتگاں کی عظمتوں کے درمیاں

    یہ سوچتے ہیں کب تلک ضمیر کو بچائیں گے

    اگر یوں ہی جیا کیے ضرورتوں کے درمیاں

    ابھی شکست کیا کہ رزم آخری اک اور ہے

    پکارتی ہے زندگی ہزیمتوں کے درمیاں

    ضمیر عصر میں کبھی نوائے درد میں کبھی

    سخن سرا تو میں بھی ہوں صداقتوں کے درمیاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY