کیا عجب اپنی زندگانی ہے

جاوید صدیقی اعظمی

کیا عجب اپنی زندگانی ہے

جاوید صدیقی اعظمی

MORE BYجاوید صدیقی اعظمی

    کیا عجب اپنی زندگانی ہے

    نا مکمل سی اک کہانی ہے

    پھول کھلنے لگے ہیں یادوں کے

    اب طبیعت میں کچھ روانی ہے

    خون ٹپکا ہے میری آنکھوں سے

    اک مسیحا کی مہربانی ہے

    خود کو کلمہ پڑھا لیا ہم نے

    پھر بھی عادت وہی پرانی ہے

    وہ کتابوں میں رہ گیا لیکن

    اس کی زندہ ابھی کہانی ہے

    ایک تو ہی نہ تھا مرا ورنہ

    ساری دنیا مری دیوانی ہے

    زندہ جاوید ذات ہے اس کی

    اور جو کچھ بھی ہے وہ فانی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY