کیا بتائیں غم فرقت میں کہاں سے گزرے

ذاکر خان ذاکر

کیا بتائیں غم فرقت میں کہاں سے گزرے

ذاکر خان ذاکر

MORE BYذاکر خان ذاکر

    کیا بتائیں غم فرقت میں کہاں سے گزرے

    موسم گل سے جو نکلے تو خزاں سے گزرے

    دل سے آنکھوں سے مکینوں سے مکاں سے گزرے

    درد پھر درد ہے جب چاہے جہاں سے گزرے

    حسن کی شوخ سری کا یہی حاصل نکلا

    آتش عشق بڑھی آہ و فغاں سے گزرے

    رقص کرتے ہی رہے خواب دھنوں پر لیکن

    سانس کے تار سبھی سوز نہاں سے گزرے

    با وضو ہو کے مرا ذکر جو کرتے تھے کبھی

    آج پلٹے ہیں زباں سے وہ بیاں سے گزرے

    وہ محبت ہو کے ایثار و وفا ہو ذاکرؔ

    عشق کے تیر شب و روز کماں سے گزرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY