کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا

حسن اکبر کمال

کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا

حسن اکبر کمال

MORE BYحسن اکبر کمال

    کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا

    دن ڈھلے سایہ مقابل ہوا بڑھ کر اپنا

    گھر سے نالاں تھے مگر دیکھی ہے دنیا ہم نے

    ہے اگر کوئی اماں گاہ تو بس گھر اپنا

    درد پہ کیسا شرر بن کے اٹھا پہلو میں

    ہم تو یوں خوش تھے کہ دل کر لیا پتھر اپنا

    رات بھر کوئی نہ سوئے تو سنے شور فغاں

    چاند کو درد سناتا ہے سمندر اپنا

    دکھ اٹھائے تو بہت رنگ خود اپنے دیکھے

    کم قیامت سے نہ تھا جو بھی تھا منظر اپنا

    روز و شب اپنے کسی سے نہیں ملتے ہیں کمالؔ

    ہم تو لائے ہیں الگ سب سے مقدر اپنا

    مأخذ :
    • کتاب : Khizan mera Mosam (Pg. 61)
    • Author : Hassan Akbar Kamal
    • مطبع : Seep Publications, karachi (1980)
    • اشاعت : 1980

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY