کیا ہوگا اندازہ تھوڑی ہوتا ہے

بابر علی اسد

کیا ہوگا اندازہ تھوڑی ہوتا ہے

بابر علی اسد

MORE BYبابر علی اسد

    کیا ہوگا اندازہ تھوڑی ہوتا ہے

    ہم نے وقت بنایا تھوڑی ہوتا ہے

    میرے ساتھ کھڑی شہزادی لگتی تھی

    ہر کوئی شہزادہ تھوڑی ہوتا ہے

    ہم نے مال مفت سمجھ برباد کیا

    جینا کھیل تماشا تھوڑی ہوتا ہے

    وہ جس بات پہ جینا مشکل ہو جائے

    اب اس بات پہ مرنا تھوڑی ہوتا ہے

    مالک اپنی مرضی کا بھی مالک ہے

    مالک نے بتلانا تھوڑی ہوتا ہے

    لوگوں کو بس باتیں کرنا آتی ہیں

    لوگوں کو کچھ کرنا تھوڑی ہوتا ہے

    ہم نے بھی تھک ہار کے آخر مان لیا

    وقت نے ہاتھ میں آنا تھوڑی ہوتا ہے

    دروازے پر آنکھیں رکھنے والوں کے

    دروازوں پر تالا تھوڑی ہوتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY