کیا ہوگا جب مر جائیں گے

حبیب کیفی

کیا ہوگا جب مر جائیں گے

حبیب کیفی

MORE BYحبیب کیفی

    کیا ہوگا جب مر جائیں گے

    اپنے اپنے گھر جائیں گے

    بات کو پوشیدہ رہنے دے

    بات کھلی تو سر جائیں گے

    قتل کیے دو چار تو سوچا

    ہم بھی تجھ سے ڈر جائیں گے

    چاہنے والے تیرے اک دن

    چوکھٹ پر سر دھر جائیں گے

    اس کی جانب جانے والے

    لے کر جلتے پر جائیں گے

    صدیاں یاد کریں گی ہم کو

    کام ایسے کچھ کر جائیں گے

    بن جائیں گے یاد کا حصہ

    جب ہم تجھ پر مر جائیں گے

    جیسی پائی ہم نے تجھ سے

    چادر ویسی دھر جائیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY